ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سُپریم کورٹ کی طرف سے گورنرس کو سخت تنبیہ، کہا؛ بلوں کو غیر معینہ مدت تک التواء میں نہیں رکھ سکتے

سُپریم کورٹ کی طرف سے گورنرس کو سخت تنبیہ، کہا؛ بلوں کو غیر معینہ مدت تک التواء میں نہیں رکھ سکتے

Sat, 25 Nov 2023 15:02:42    S.O. News Service

نئی دہلی 25/نومبر(ایس او نیوز) اپوزیشن پارٹیوں کی حکومتوں کو گورنرس کے ذریعے ہراساں کئے جانے اور ان کے منظور شدہ بلوں کو روکنے پر سپریم کورٹ نے گورنرس کو سخت تنبیہ دی ہے۔چیف جسٹس چندر چوڈ کی بنچ نے کہا کہ گورنر بغیر کسی کارروائی کے بل یا بلوں کو غیر معینہ مدت تک زیر التواء نہیں رکھ سکتے۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڈ ، جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے کہا کہ ریاست کے ایک غیر منتخب سربراہ کے طور پر گورنر کو کچھ آئینی اختیارات سونپے گئے ہیں لیکن انہیں بغیر کسی کارروائی کے بل کو غیر معینہ مدت تک زیر التواء رکھنے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ بنچ کے مطابق آئین کے آرٹیکل۲۰۰؍کے مطابق گورنر کے پاس تین اختیارات ہیں پہلا ہے بل کو منظوری دینا، دوسرا منظوری روکنا اور اسے صدر کے غور کے  لئے محفوظ رکھنا۔ ان تینوں اختیارات کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ گورنر کے پاس بل غیر معینہ مدت کیلئے روکنے کا کوئی  اختیار نہیں ہے اور انہیں ایسا کسی بھی صورت میں نہیں کرنا چاہئے۔

چیف جسٹس کی بنچ نے پنجاب میں گورنر کی طرف سے بل کے طویل التواء کے معاملے میں  ۱۰؍ نومبر کو یہ حکم دیا تھا جسے گزشتہ شب جاری کیا گیا ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ اختیارات کا استعمال ریاستی مقننہ کے ذریعہ قانون سازی کے معمول کے عمل کو ناکام بنانے کے لئے نہیں کیا جاسکتا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی (بلوں کو زیر التواء رکھنا) حکومت کے پارلیمانی پیٹرن پر مبنی آئینی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہو گی۔ اسے ہم منظوری نہیں دے سکتے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے تبصرہ کیا تھا کہ گورنر آگ سے کھیل رہے ہیں اور ملک کی آئینی و پارلیمانی جمہوریت کو نقصان پہنچارہے ہیں۔یاد رہے کہ   پنجاب حکومت کے علاوہ تمل ناڈو اور کیرالا حکومتوں نے بھی منظوری کے  لئے بھیجے گئے بلوں پر کارروائی کرنے میں گورنر کی تاخیر کے خلاف عدالت میں الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ پنجاب کے گورنر بنواری لال پروہت کے خلاف داخل کی گئی بھگونت مان سرکار کی اپیل پر سنایا۔

دوسری طرف سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا اپوزیشن کی تمام پارٹیوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ پنجاب کی عام آدمی پارٹی کی سرکار نے اسے  بروقت اور ضروری فیصلہ قرار دیا جبکہ کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے کہا کہ’’ یہ فیصلہ ملک کے تمام گورنروں پر نافذ ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ واضح کردیا ہے کہ حکومتیں اور گورنرس آئینی کے مطابق ہی کام کریں گے ۔ ‘‘ چدمبرم نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی سرکاروں کو جس طرح سے پریشان کیا جارہا تھا اور اس  کے ذریعے  کچھ سرکاریں بھی گرائی گئیں ، اسے مد نظر رکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ اس نے گورنرس کا رول بالکل واضح کردیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ گورنرس ایک غیر منتخب سربراہ ہیں اور انہیں عوام کے ذریعے منتخب کی گئی حکومتوں کے کام کاج میں مداخلت کا نہ کوئی اختیار ہے اور نہ انہیں اس کا حق پہنچتا ہے۔


Share: